غزل 47
Akhtar Asifi Peshawari
زرافشاں مانگ بزم کہکشاں معلوم ہوتی ہے
زمین کوئے جاناں آسماں معلوم ہوتی ہے
نگاهِ ناز طرفہ چیستاں معلوم ہوتی ہے
بلائے جان ہے اور آرام جاں معلوم ہوتی ہے
کچھ ایسی چھائی ہے افسردگی گلزار عالم میں
چمن کی ہر کلی وقف خزاں معلوم ہوتی ہے
یہ کیا طرفہ تماشہ ہے نہ موجیں ہیں نہ دریا ہے
بھنور میں کشتی عمر رواں معلوم ہوتی ہے
کفیل زندگی جس آرزو کو ہم سمجھتے تھے
وہی اُن کی طبیعت پر گراں معلوم ہوتی ہے
خدا رکھے عجب شے ہے یہ محسوسات کی دُنیا
یہاں دل کی خلش راحت رساں معلوم ہوتی ہے
مرے دل میں بھی ہے اس طرح تخیل بربادی
چمک جگنو کی برق آشیاں معلوم ہوتی ہے
اگر چہ پیش خیمہ ہے خزان کا اس کا ہر لمحہ
جوانی اک بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے
اذیت بن گئی دل کیلئے راحت نشیمن کی
کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے
زباں پر شوق کے الفاظ آنے ہی نہیں دیتی
حیا جذبات دل کی پاسباں معلوم ہوتی ہے
قدم آگے بڑھے کیا خاک میر کارواں تیرا
مری حسرت شریک کارواں معلوم ہوتی ہے
کہانی میں مری کثرت سے تیرا نام آتا ہے
مری روداد تیری داستاں معلوم ہوتی ہے
ہر اک شعر آپ کا جذبات کی تصویر ہے گویا
طبیعت آپ کی اخترؔ جواں معلوم ہوتی ہے