غزل 24
Akhtar Asifi Peshawari
داغ بن کر دل مخروں میں فروزاں ہوں گے
جو ستارے سرِ مژگاں نہ درخشاں ہوں گے
عمر ہم کوچہ الفت میں بسر کر دیں گے
اور مٹنے پہ بھی خاکِ درِ جاناں ہوں گے
اپنے ارمانوں کا ہم کرتے نہ ہر گز اظہار
کیا خبر تھی کہ یہ رسوائی کا ساماں ہوں گے
ہم جہاں بھی گئے ویرانہ ہی ویرانہ ملا
تم جہاں ہو گے گلستاں ہی گلستاں ہوں گے
آپ آ کر شب وعدہ مرے گھر دیکھیں تو
بارِ خاطر نہ مری جاں مرے ارماں ہوں گے
باغباں فکر نہ کر موسم گل آنے دے
نہ نظر آئیں گے دامن نہ گریباں ہوں گے
خیر مقدم نہ تم اصنامِ مجازی کا کرو
بس گئے دل میں تو یہ جان کے خواہاں ہوں گے
خلل انداز عبادت میں اگر تو نہ ہوا
تیرے مجنوں ہم اے جذبہ عصیاں ہوں گے
آج کی رات بھی گنوائے گی تارے اخترؔ
وہ نہ آئیں گے نہ پورے مرے ارماں ہوں گے