بہاروں کو کیا کروں
Akhtar Asifi Peshawari
ساقی ترے اداس اشاروں کو کیا کروں
جو دیں نہ پھول ایسی بہاروں کو کیا کروں
اس ماہرو بغیر نہیں چاندنی کا لطف
میں آسماں کے چاند ستاروں کو کیا کروں
جینے کا اب تو کوئی سہارا نہیں رہا
ہاں اے امید تیرے سہاروں کو کیا کروں
جلوہ دکھا وہ جس سے مرے دل کو ہو لگاؤ
بے لاگ ہوں جو ایسے نظاروں کو کیا کروں
کرتا نہ جو ترے دامن کی میرے چاند
آنکھوںسے ٹوٹتے ہوئے تاروں کو کیا کروں
میں چاہتا بہت ہوں کہ وہ دن نہ یاد آئیں
بہتے ہوئے خیال کے دھاروں کو کیا کروں
ان صحبتوں کی دل سے کھٹک کس طرح مٹے
پھولونکو بھول جاؤں تو خاروں کو کیا کروں
کیوں جی کڑھاؤں کر کے دیوالی کی رات یاد
اڑتے ہوئے فضا میں غبارونکو کیا کروں
مستی بھری نگاہ لئے دل میں ڈوب جا
بیدرد خشک خشک اشاروں کو کیا کروں
جی چاہتا ہے تو ہو سواری سمند ناز
جو خاک اڑائیں ایسے سواروں کو کیا کروں
آئینہ خیال میں ہے عکس ریز تو
پردوں پہ چلتے پھرتے نگاروں کو کیا کروں
خواہش تو تھی کہ راز دلی راز ہی رہے
اٹھتے ہوئے جگر سے شراروں کو کیا کروں
اخترؔ ہے لب پہ نعرہ رنگین انبساط
میں دل کے گونجتے ہوئے تاروں کو کیا کروں