غزل 62
Akhtar Asifi Peshawari
نشانِ مرقد عاشق کی جستجو کرتے
وہ خاک چھانتے فریاد کو بکو کرتے
کہیں نشان نہ پایا وہ بے نشان ہو تم
کٹی ہے عمر ہماری تو جستجو کرتے
نصیب غیر ہوا آه بوسہ جاناں
میں وقفِ غم ہی رہا صرفِ آرزو کرتے
نہ بزم غیر میں جاتے نہ تم سبک ہوتے
مرا نہ پاس سہی اپنی آبرو کرتے
بہارِ باغ کو سچ مچ وہ داغ ہو جاتا
اگر گلاب کو اس گل کے روبرو کرتے
جنابِ شیخ ہیں دلداده دخترِ رز کے مگر
کمر ہے خم سہی پر اسی کی ہیں گفتگو کرتے
تری بہشت حقیقت جو شیخ کچھ رکھتا
مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
زخود رمیده الفت اگر نہ ہو جاتے
تو ہم کیوں آ کے سربزم ہاؤ ہو کرتے
وہ کیا جنوں کہ رہیں برقرار ہوش و ہواس
ہم آپ گم تھے تو کیا تری جستجو کرتے