غزل 46
Akhtar Asifi Peshawari
غم دوست ہے سلامت تو خوشی کی کیا کمی ہے
یہ نشاطِ غیر فانی یہ سرورِ سرمدی ہے
ترے نقش پا پہ سجدہ جو کیا کہا زمیں نے
یہی اصل بندگی ہے یہی عین بندگی ہے
یہ دوام کون ہے مری زندگی کا یا رب
مری آنکھ ہی ہے آنسو مرے ہونٹ پر ہنسی ہے
تری زلف کے تصدق شب غم سے کیوں ڈروں میں
کہ تری بیاض رخ سے مرے دل میں روشنی ہے
مجھے پوچھتے تو ہیں وہ مرا درد تو ہے اُند
یہی شان صاحبی ہے یہی بندہ پروری ہے
مرا ذوق والہانہ مرا شوق جان نثاری
مرے گھر میں ہے سبھی کچھ فقط آپ کی کمی ہے
وہ ہیں جانِ رستانہ میں نشانِ رستانہ
یہ عروجِ خواجگی ہے یہ کمالِ بندگی ہے
یہ بہار غنچہ و گل یہ وجودِ ساغر و مل
جو پلائے خود ہی ساقی تو بہار میکشی ہے
ہمیں ره رو تمنا ہمیں رہنما بھی اخترؔ
نہیں پیروی گوارا کہ غرور آگہی ہے
Written in:پشاور