بارگاہ اقبال میں
Akhtar Asifi Peshawari
لے مرا اے شاعر اعظم سلام
واقف اسرار کیف و کم سلام
تجھ سے تھی جام جہاں بیں شاعری
ساقی محفل فروز جسم اسلام
کہتی ہے آداب مجھ کو شاخ گل
کرتے ہیں غنچے تجھے پیہم سلام
دیکھ کر تجھ کو جو مینا جھک گیا
کر رہا ہے کر کے گردن خم سلام
ہاں تری خدمت میں تسلیم و نیاز
ہاں مجھے کرتا ہے اک عالم سلام
اے رفیق بے کساں تسلیم لے
اے مرے مونس مرے ہمدم سلام
کاش کرتا ہو تو یہ تحفہ قبول
بھیجتا ہوں میں تجھے ہر دم سلام
منکر مشاطہ کو تیری کہتے ہیں
شاعری کے گیسوئے برہم سلام
اے برائے درد دل درمان نیاز
اے پئے زخم جگر مرہم سلام
مرحبا صد مرحبا فکرِ لطیف
راز دار شعله شبنم اسلام
بھیجتی ہے تجھ کو میری معرفت
اُمتِ پیغمبر اکرم سلام
نظم کو تو نے لگائے چار چاند
تجھ سے پر رونق ہے یہ عالم سلام
واہ کیا لہراتا ہے کر کے
تجھے تیرے پاکستان کا پرچم سلام
تو براجے جنت الفردوس میں
اور لے اخترؔ کا دم پردم سلام