غزل 71
Akhtar Asifi Peshawari
دیکھتا ہوں دست ساقی میں چھلکتا جام ہے
توبہ توبہ توبہ تو کیوں لرزہ براندام ہے
سرکشی سے آشنا کب ہے وفا پرور ترا
سعی آزادی اسیر عشق پر الزام ہے
تھا مگر صیاد دانے کی کشش سے بے خبر
طائر آزاد مصروف طواف دام ہے
کشمکش سے ہوں امید و بیم کی میں بے نیاز
جانتا ہوں کیا نگاہ ناز کا پیغام ہے
سختیوں سے قید کی گھبرانے والو یہ بتاؤ
سن چکے ہو تم کہ آزادی کا کیا پیغام ہے
دلکشا وہ صبح جو ہو تیرے جلووں میں طلوع
تیری زلفیں جس میں شامل ہوں وہ رنگیں شام ہے
کون سی وہ شے تھی واعظ کر رہا تھا جسکا ذکر
آتے آتے رہ گیا لب پر بھلا سا نام ہے
عافیت سے بے تعلق عاقبت سے بے خبر
کون جانے دکھ بھری ہستی کا کیا انجام ہے
غفلت صیاد کا عالم ہے کتنا جانگزا
موت کے پھندے میں ہے جو زیر دام ہے
بے تعلق لمحہ بھر تو اہل حاجت سے نہیں
تیرے صدقے بے نیازی کیا اسی کا نام ہے
اک طرف اخترؔ ہے اور اسکا دل پر اعتبار
اک طرف وہ شوخ ہے اور اسکی صبح و شام ہے