غزل 22
Akhtar Asifi Peshawari
مدت اگر بڑھائی گئی انتظار کی
چھانوں گا خاک جا کے تیرے رہگزار کی
اس کے دھن کو دیکھ کے غنچوں کا منہ ہے فق
جیسے نچوڑ لے کوئی مستی بہار کی
محفل میں اس ہم جو گئے بھی تو یہ ہوا
جا تھی قرار کی نہ تو صورت فرار کی
دیکھا ہے جب سے جور خزاں کا چمن میں رنگ
باقی رہی نہ دل میں تمنا بہار کی
زاہد تیری بہشت بہارِ آفریں سہی
کچھ کم نہیں ہے اس سے فضا کوئے یار کی
کیونکر کہوں کے وصل کا ارماں نہیں رہا
باقی ابھی ہے دل میں خلش انتظار کی
بالیں پر نم کو دیکھ کے آنسو نکل پڑے
غایت نہ پوچھو گریہ بے اختیار کی
اربابِ ذوق هوش سے بیگانہ ہو گئے
نگہت جو پھیلی گیسوئے مشکیں یار کی
تارے گنا کرتے ہیں ہم اخترؔ تمام رات
پوچھو نہ سرگذشت شب انتظار کی