ترے جمال سے روشن دلوںکے کاشانے
Akhtar Asifi Peshawari
جنوں کی ہوسکے تحقیق کس سے دیوانے
بنیں گے ایک حقیقت سے لاکھ افسانے
ترے خیال سے رنگیں دماغ کی بزمیں
ترے جمال سے روشن دلونکے کاشانے
خودی سے کوئی سروکار ہی رہا نہ مجھے
تری نگاہ نے کیا کر دیا خدا جانے
صنم کدہ ہو، کلیسا ہو، یا ہو بیتِ حرم
جلے گی شمع جہاں جمع ہوں گے پروانے
یہ کیسا دور ہے ساقی نہ رند ہیں نہ شراب
بھری بہار میں خالی پڑے ہیں میخانے
چراغ حسن ہے رونق فروز کعبہ دل
تصورات میں آباد ہیں صنم خانے
میں تیری آنکھوں کے قربان ساقی محفل
ہیں دلکشا یہ چھلکتے ہوئے سے پیمانے
فروغ حسن سے ہے بزم عشق بقعہ نور
اگرچہ شمع کو گھیرے ہوئے ہیں پروانے
نگاہ جاتی نہیں جلوہ بتاں کی طرف
ہے کون کعبہ دل میں مرے خدا جانے
نہ دیر میں ہے نہ کعبہ فروز حیرت ہے
وہ جلوہ جس سے ہیں آباد آئینہ خانے
وہ دن بھی تھے کہ تھیں آسودہ ہستیاں ہم
زبانِ حال سے کرتے ہیں عرض ویرانے
یہ غم نہیں کہ میں اپنا انہیں بنا نہ سکا
ستم تو یہ ہے یگانے ہوئے ہیں بیگانے
نہیں خدا کے سوا گو کوئی صنم مرا
مرے دماغ میں اخترؔ بسے ہیں بنتخانے