غزل 21
Akhtar Asifi Peshawari
بیقراری کا سبب اے دل ناداں کیا ہے
آخر اس مفت کے سردرد کا درماں کیا ہے
تم سلامت ہو تو دل میں نہیں زخموں کی کمی
سامنے شور تبسم کے نمکداں کیا ہے
گل کترتی ہوئی چلتی ہے تری موجِ خرام
ترے قدموں سے لگی فصل بہاراں کیا ہے
کہہ دیا حالِ دروں کیا کسی دیوانے نے
آج ہنگامہ سرِ کوچہ جاناں کیا ہے
ہم تو احساس سمجھتے تھے جفا کو تیری
یہ وفاؤں کا صلہ ہے تو پھر احساں کیا ہے
آرزویں مری پامال نہ ہوں دیکھ تو لے
ترے قدموں میں یہ اے سروِ خراماں کیا ہے
زندگی یوں بھی گزرنے کو گزر جاتی ہے
غور کر مقصدِ پیدائشِ انساں کیا ہے
آنکھیں بے نور سی، بال اُلجھے ہوئے، چہرہ فق
سبب اس عالم ویراں کا مری جاں کیا ہے
غیر معمولی سی رونق ہے یہاں آج اخترؔ
آنے والا کوئی اس شہر میں مہماں کیا ہے