غزل 26
Akhtar Asifi Peshawari
عبث ہیں دیر و حرم کے جھگڑے وہ ان گھروں میں کہیں نہیں ہے
خدا کا جلوہ بجز محبت قسم خدا کی کہیں نہیں ہے
گماں کروں کیوں یقیں پہ اپنے گماں برائے یقیں نہیں ہے
سوا تمہارے کوئی بھی میرے حریم دل میں مکیں نہیں ہے
سرائے فانی میں ہر نفس ہے پیامبر وقت واپسی کا
چلا دے اک دور اور ساقی ثبات کا کچھ یقیں نہیں ہے
نگاهِ بنتِ عنب پر ڈالے مجال شیخِ حرم کی کیا ہے
پری ہے یہ بزم میکساں کی یہ حور خلد بریں نہیں ہے
ہر ایک زرے میں دیکھتا ہوں جمال مطلق میں عکس تیرا
تو میرے دل میں بسا ہوا ہے اگرچہ پہلو نشیں نہیں ہے
سبب ہے ساری برائیوں کا دماغ سے نفس کا تعلق
ضمیر خیرالورا ہے لیکن خیال روح الامیں نہیں ہے
بہ ضد تعلق کی پردہ در ہے لگاؤ ہے لاگ سے نمایاں
مجھے تری ہاں کی آرزو تھی تیری زباں پر نہیں نہیں ہے
چلے ہو کوئے صنم کو اخترؔ ٹٹول لو دل کے حوصلے کو
کئے ہیں چور اس نے دل ہزاروں وہ آسماں ہے زمیں نہیں ہے