اخترؔ دیوانہ
Akhtar Asifi Peshawari
تو بہ ہو جائے نہ نذر شیشہ و پیمانہ آج
مہرباں ہے میکشوں پر ساقی میخانہ آج
میگساروں میں ترے پیر مغاں لاکھوں مگر
دہر میں باقی کہاں ہے مشرب رندانہ آج
جانے کیا دیکھا بتوں میں زاہد حق بیں نے
کعبتہ اللہ چھوڑ کر وہ جا رہے بتخانہ آج
چل گئی آخر عدو کی ان کے دم میں آ گیا
وائے قسمت آشنا اپنا ہوا بیگانہ آج
خم کدے کے در پہ ساقی نے لگائی ہے سبیل
مژده بادہ اے میگسار و وقف ہے میخانہ آج
اب کسے مارینگے پتھر ترے کوچے کے مکیں
اُٹھ گیا دنیا سے تیرا اخترؔ دیوانہ آج