مُسلم کے نام
Akhtar Asifi Peshawari
ایکہ تیرے ہاتھ میں تھا تمام دنیا کا نظام
ایکہ تو بدسخبت تھا اقوامِ عالم کا امام
تیرے ہی قبضے میں تھا نوشیروانی تخت و تاج
تو کبھی لیتا نہ تھا نخوت سے قیصر کا سلام
یاد کر پائمال ابلق لیل و نہار
تھام رکھی تھی کبھی تو زمانے کی لگام
سر جھکاتا تھا کبھی باطل تری دہلیز پر
جذبہء حق سے ترا دل تھا کبھی دارِ السلام
تیرے آگے کب کسی کو تھی مجالِ سرکشی
سر اٹھا سکتا نہ تھا رُستم زبیم انتقام
تو معزز تھا زمین والوں کی نظروں میں کبھی
آسماں والے کیا کرتے تھے تیرا احترام
ہر قدم پر خیر مقدم کرتی تھی نصرت ترا
جبکہ باطل کی روش پر تو نہ تھا محوِ خرام
کل تو بندوں کو غلامی سے رہا کرتا تھا تو
کیا غضب ہے آج تو خود ہے غلاموں کا غلام
کیوں نہیں ہے تجھ میں وہ جاہ و جلال سابقہ
کھو دیا ظالم کہاں تو نے وہ پہلا احتشام
تیری فطرت میں غلامی نے کیا وہ انقلاب
یاد ماضی بھی تجھے آتی نہیں خانہ خراب