غزل 15
Akhtar Asifi Peshawari
میں عرض مدعا تو کروں آ کے سامنے
بنتی کہاں ہے بات تیری کیا کے سامنے
گرنا نہیں جو میری نشیمن پہ برق کو
کیوں بار بار آتی ہے منڈلا کے سامنے
محفل میں اُن کی میں نے جو اک آہ کی تو وہ
بیٹھے تھے دور آ گئے گھبرا کے سامنے
چاہا ہزار اُس نے کہ پیچھا چھڑائیے
کچھ چل سکی نہ میری تمنا کے سامنے
زاہد لحاظ توبہ کا میں کس طرح کروں
ٹھہرے بھی وہ کہیں مئے و مینا کے سامنے
دل خون تھا پر آنکھوں میں گھل مل کے رہ گیا
کیا بات بنتی قطرے کی دریا کے سامنے
آواز پر ضمیر کے رکھتا ہوں اپنے کان
کیوں سر جھکاؤں خواہشِ بےجا کے سامنے
واعظ ابھی تو تیری قیامت میں دیر ہے
دنیا بچھی ہے قامت بالا کے سامنے
اخترؔ نے توبہ کو نظر انداز کر دیا
ساقی تیری شراب مصفا کے سامنے