سهرا
Akhtar Asifi Peshawari
بندھا ہے کس کی جبیں نیاز پر سہرا
سکوں پذیر ہے معراج ناز پر سہرا
کھلی ہوئی یہ حقیقت ہے اہل بنش پر
نثار ہے خم زلف مجاز پر سہرا
صدا شگفتن کلی کی کتنی وجد آور
ہے نغمہ سنج محبت کے ساز پر سہرا
ہے تاج خسرو گل کا اشارہ محمود
کہ جھومتا ہے جبین ایاز پر سہرا
پیو ایاز محمد خوشی سے بادۂ عیش
سند ہے جام طرب کے جواز پر سہرا
نقوش چہرے کے رومال سے چھپا کہ رہو
تلا ہی بیٹھا ہے افشائے راز پر سہرا
بنے ہو نوشہ خدا عمر بھی دراز کرے
دے امتیاز تمہیں امتیاز پر سہرا
اسی کی سعی سے آتی ہے رنگ پر محفل
ہے دور مے کا سر شیشہ ساز پر سہرا
کسی کے سحر نوازش کا ہے اثر آصف
کہ ہے مرے لب معجز طراز پر سہرا