ذوقِ تپش
اخترؔ آصفی پشاوری
اگر ذوقِ تپش ہے آتش غم تیز کرتا جا
مئے حب وطن سے جامِ دل لبریز کرتا جا
پلا کر خون دل سے سرسبز رکھ کشتِ تمنّا کو
نہال ملک کی ہر شاخ کو گلریز کرتا جا
فسانہ چھیڑ کر دن۔۔۔میں
شبِ دیجور غم کو روز عشرت خیز کرتا جا
نہ گھبرا دیکھکر پست و بند منزل الفت
اگر عزمِ سفر پختہ ہے جست و خیز کرتا جا
جلا دے دل کے آئینے کو ضبطِ شعلہ غم سے
تمناؤں کے دریا کو تلاطم خیز کرتا جا
جفا ہے حسن کا شیوا جفا سہنے کا خوگر بن
وفا کر اور وفا کو اشتیاق آمیز کرتا جا
ہے ہونا کامیاب اخترؔ تو جدوجہد جاری رکھ
امیدوں سے سمندِ شوق کو مہمیز کرتا جا
شائع شدہ:رسالہ راج رنگ لائلپور (۱ مئی ۱۹۳۳)
اصل ماخذ میں تحریر بخوبی پڑھی نہ جا سکی جس کے باعث یہ کلام نامکمل ہے۔