(اخترؔ آصفی پشاوری)
سوانح حیات
تعارف اور ابتدائی حالات
اخترؔ آصفی پشاوری (اصل نام عبدالودود اخترؔ) بیسویں صدی کے اردو ادب سے وابستہ ایک ایسے شاعر تھے جن کی زندگی برصغیر کی تقسیم اور ہجرت کے مختلف مراحل سے گزری۔ اگرچہ ان کا بنیادی تعلق پشاور سے تھا، لیکن تقسیمِ ہند سے قبل ہی وہ متحدہ ہندوستان کے مختلف اقطاع میں ہونے والے مشاعروں اور ادبی نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہونے لگے تھے، اور مشاعروں میں یہ شرکت و سرگرمی ان کی تمام عمر جاری رہی۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اپنے عہد کے ہنگامہ خیز سیاسی، سماجی اور جغرافیائی تغیرات کو سیدھے اور صاف الفاظ میں بیان کیا ہے۔
ہجرتوں کا کرب اور مختلف خطوں کا سفر
اخترؔ آصفی نے اپنی زندگی میں نقل مکانی کے تکلیف دہ تجربات بار بار برداشت کیے۔ ان کی ابتدائی زندگی اور فکری نشوونما تقسیمِ ہند سے قبل مقیم ہندوستان کے معاشرے میں ہوئی۔
پاکستان بننے کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہروں، خصوصاً ڈھاکہ اور چاٹگام، میں سکونت اختیار کر لی۔ وہاں قیام کے دوران وہ مقامی ادبی سرگرمیوں کا باقاعدہ حصہ رہے اور وہاں کے سیاسی و سماجی حالات ان کی منظومات کا موضوع بنتے رہے۔
1971ء میں جب سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا، تو انہیں ایک بار پھر اپنا بسایا ہوا گھر چھوڑنے اور نقل مکانی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ وہ مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے واپس مغربی پاکستان آ گئے۔ بار بار گھر بدلنے، اجڑنے اور ہجرت کے ان مسلسل تجربات نے ان کی سوچ کو گہرے طور پر متاثر کیا، جس کا عکس ان کے کلام میں دربدر ہونے کی اذیت اور سماجی بے حسی کے خلاف احتجاج کی صورت میں نمایاں ہوا۔
نظریاتی وابستگی اور استعاراتی اسلوب
فکری اعتبار سے ان کی شاعری میں بائیں بازو (Left-leaning) اور ترقی پسند خیالات کا واضح اور پختہ رجحان پایا جاتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے استحصالی رویوں کے سخت خلاف تھے اور ان کے ہاں مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی غصب شدگی پر کڑی تنقید ملتی ہے۔
انہوں نے اپنے ان نظریات کے اظہار کے لیے کلاسیکی اور روایتی استعاروں کا دلیری سے استعمال کیا:
- گلشن، بہار اور خزاں: ان کی شاعری میں 'خزاں' محض موسم نہیں بلکہ طبقاتی جبر اور سماجی ناانصافی کی علامت ہے، جب کہ 'بہار' سے ان کی مراد وہ مساوی معاشرہ ہے جہاں محنت کشوں کو ان کا حق ملے۔
- آشیاں اور قفس: بار بار ہجرت کرنے کے باعث 'آشیاں' کا بکھرنا ان کی عدم تحفظ کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، اور 'قفس' سماجی یا حکومتی گھٹن کی غمازی کرتا ہے۔
- میکدہ اور پیرِ مغاں: انہوں نے میکدے کو ایک ایسے مثالی معاشرے کے طور پر پیش کیا جہاں مذہب، رنگ یا ذات پات کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا اور پیرِ مغاں کو ایک منصف انسان کے روپ میں دکھایا ہے۔
کلام کے بنیادی موضوعات
تخلیقات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ طبقاتی کشمکش ان کا ایک اہم ترین موضوع تھا۔ مثال کے طور پر وہ اپنی نظموں اور غزلوں میں سرمایہ دار کے استحصالی رویوں اور مزدوروں کی مجبوری کو واضح طور پر بے نقاب کرتے ہیں۔
ان کی شاعری میں ہجرت کے داغ اور پرانے وطن کی یاد بھی جابجا موجود ہے۔ 'ہندوستاں چھورڑا'، 'بیچارگی ہندوستان' اور 'نوحہ وطن' جیسی نظمیں دربدر ہونے والے انسان کے دکھ کی سادہ مگر پراثر داستان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، وہ مذہبی تنگ نظری کے خلاف بھی آواز اٹھاتے ہوئے شیخ و برہمن یا دیر و حرم کا استعارہ انسان دوستی اور بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
شعری اسلوب اور ادبی ورثہ
تکنیکی اور فنی اعتبار سے اخترؔ آصفی غزل، نظم، قطعہ اور تضمین کی اصناف پر عبور رکھتے تھے۔ اپنی شاعری میں سماجی حقیقت نگاری اور احتجاجی آہنگ کے ساتھ وہ تمام عمر مختلف شہروں میں محافلِ سخن کی رونق بنے رہے اور تسلسل کے ساتھ اپنا کلام لوگوں تک پہنچاتے رہے۔
زندگی بھر مشاعروں میں اس شرکت اور سرگرمی کے باوجود، وقت کے ساتھ ساتھ ان کا نام ادبی تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو گیا۔ ان کا کلام وسیع پیمانے پر منظرِ عام پر نہ آ سکنے کی وجہ سے وہ بڑے ادبی افق پر گمنام ہی رہے۔ ان کی ڈائریوں کی یہ حالیہ دریافت اسی گمنام اور متروک ادبی وراثت کی ایک بازیافت ہے، جو دربدر ہونے والے انسانوں اور کچلے ہوئے طبقے کے دکھوں کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد اسی فراموش شدہ کلام کو دوبارہ محفوظ کر کے اسے ایک پہچان دینا ہے۔