وہ اور ہم
اخترؔ آصفی پشاوری
وہ حوصلہ اہل وفا دیکھ رہے ہیں
ہم تیزی شمشیر جفا دیکھ رہے ہیں
وہ ہیں کہ خبر ہی نہیں کچھ اُن کو ہماری
ہم ہیں کہ تغافل کی ادا دیکھ رہے ہیں
وہ ناز سے آرائش گیسو میں ہیں مصروف
ہم آئینے میں شانِ خدا دیکھ رہے ہیں
وہ رنگِ حنائے کفِ پا دیکھ کر خوش ہیں
ہم منظرِ خونِ شہدا دیکھ رہے ہیں
وہ پردے میں ہر چند رہیں شرم و حیا سے
ہم اُن کو مگر جلوہ نما دیکھ رہے ہیں
وہ ہیں کہ جفا کرنے پر سختی سے ہیں قائم
ہم ہیں کہ سر انجامِ وفا دیکھ رہے ہیں
وہ وصل میں بھی شرم پہ غالب نہیں آتے
ہم شوق کو مغلوبِ حیا دیکھ رہے ہیں
وہ حسن کا ممنوں سمجھتے ہیں بقا کو
ہم دہر کو مائل بہ فنا دیکھ رہے ہیں
وہ ملتفت آتے نظر اس طرف اخترؔ
ہم درد کو ممنونِ دوا دیکھ رہے ہیں