قطعہ 14
اخترؔ آصفی پشاوری
تلافیِ ستمِ روزگار کرتا ہوں
خزاں کے دور کو رشک بہار کرتاہوں
جبینِ زیست پہ جب دیکھتا ہوں غم کی شکن
کنارے جو بط مئے کا شکار کرتا ہوں
بمقام:ڈھاکہ
اخترؔ آصفی پشاوری
تلافیِ ستمِ روزگار کرتا ہوں
خزاں کے دور کو رشک بہار کرتاہوں
جبینِ زیست پہ جب دیکھتا ہوں غم کی شکن
کنارے جو بط مئے کا شکار کرتا ہوں