غزل 59
اخترؔ آصفی پشاوری
ستم ٹوٹا ہوئیں اس شوخ سے جب مری چار آنکھیں
جگر میں ہوک اٹھی ہوگئیں خونابہ بار آنکھیں
حجابِ ناز سے پھر فائدہ کیا جب یہ عالم ہے
کہ تجھ کو چھنے والے گھورتی ہیں بے شمار آنکھیں
کسے نرگس دکھاتی ہے یہ مستانہ ادا اپنی
ابھی اس نے نہیں دیکھیں کسی کی گلعذار آنکھیں
رواں ہیں سیل گریہ رات دِن رنج جدائی میں
بنی ہیں انتظارِ دلربا میں آبشار آنکھیں
بھلا ایسے ہی عرض تمنا کیا کرے کوئی
دکھاتے رہتے ہیں ہمدم وہ مجھ کو بار بار آنکھیں
مجھے بے خود کیے دیتا ہے ترا جوشِ سر مستی
پیامِ شوق دیتی ہیں تری اے گلعذار آنکھیں
وہیں کا ہو گیا پہنچا جو میں کوئے محبت میں
ہوئیں اس درجہ محو جلوه نقش و نگار آنکھیں
شباب اور اس پہ مے نوشی یہ عالم ہے کوئی دیکھے
بنی ہیں مائلِ رنگینی صبحِ بہار آنکھیں
ترے دیدار سی سیری کبھی حاصل نہیں ہوتی
تجھے دیکھا کریں اے حسنِ حیرت گر گزار آنکھیں
بنی ہے حسرت دیدار میں یوں جان پر اخترؔ
کہ رکھتی ہیں ہمیشہ اب تو مجھ کو بے قرار آنکھیں