شعر و شاعر
اخترؔ آصفی پشاوری
جب فطرت کے گہوارے میں آرام سے دنیا سوتی ہے
آرام سے دنیا سوتی ہے جب محو راحت ہوتی ہے
سنسار کے کونے کونے میں جب ہو کا عالم ہوتا ہے
جب پریم کا مارا بیکل ہو کر چپکے چپکے روتا ہے
جب دیر و حرم میں شیخ و برہمن فرض سے غافل ہوتے ہیں
جب یہ دونو مذہب کے پجاری میٹھی نیندیں سوتے ہیں
پر کیف ہوا کے جھونکوں سے جب باغ میں شاخیں ہلتی ہیں
اور فرط مسرت سے جدم گلشن میں کلیاں کھلتی ہیں
ہستی کے خرابے میں انساں جب ملک عدم سے آتا ہے
آدم کا یہ بیٹا دنیا میں گلزار ارم سے آتا ہے
جب دو دریا کے پانی کو آپس میں سمویا جاتا ھے
اک جانے بوجھے رشتے میں دو دل کو پرویا جاتا ہے
جب نئی نویلی دلہن کوئی سسرال کو جاتی ہوتی ہے
دل میں مسرور بھی ہوتی ہے آنسو بھی بہاتی ہوتی ہے
شبنم کی تراوش ہوتی ہے جب رنگ و بو کی بستی پر
جب دل دو شیزہ فطرت کا ہوتا ہے مائل مستی پر
آمد کی خبر سے صبح کی جب شب راہ سے ہٹتی ہوتی ہے
تاریکی چھنٹتی ہوتی ہے پو صبح کی پھٹتی ہوتی ہے
بیمار محبت بستر پر دم توڑنے والا ہوتا ہے
پابند وفا اس دنیا سے منہ موڑنے والا ہوتا ہے
جب دیدۂ عبرت سے شاعر نیرنگ زمانہ دیکھتا ہے
لکھا ہوا خون کی سرخی سے الفت کا فسانہ دیکھتا ہے
عورت کی کلائی چوڑیوں سے آزاد نظر جب آتی ہے
کمسن سی کوئی بیوہ وقف بیداد نظر جب آتی ہے
مزدور کی دنیا پر جدم زردار خدائی کرتا ہے
اور اپنی سنہری حکمت سے محنت کی تباہی کرتا ہے
فرعونیت زرداری جب محنت کو کچلتی ہوتی ہے
اللہ کی بھولی خلقت کو پیروں سے مسلتی ہوتی ہے
اس وقت دماغ شاعر پر افکار کی بارش ہوتی ہے
افکار کی بارش ہوتی ہے شعروں کی نگارش ہوتی ہے