شاخِ بریده
اخترؔ آصفی پشاوری
بربادِ اضطراب ہوں حرماں رسیدہ ہوں
بیتابی فراق کا زحمت کشیدہ ہوں
تنگِ جہانِ انگ ہون نگہت پریدہ ہوں
پرمژدہ ہوں اگر چہ گل تو رمیدہ ہوں
جب سے ترا جمال ہوا ہے نظر فروز
ہوش و حواس و عقل و خرد سے رمیدہ ہوں
بے کیف ہے شراب مسرت مرے لئے
تلخ آب حیات کا لذت چشیدہ ہوں
وہ دورِ انبساط وصالِ صنم کہاں
اک عمر سے فراق کا زحمت کشیدہ ہوں
ہر داغ کہہ رہا ہے دل داغدار کا
میں گلستانِ غم کا گل نودمیدہ ہوں
مخصوص جس کے واسطے بیداد برق تھی
میں نخلِ آرزو کی وہ شاخِ بریدہ ہوں
قیمت سے میری دیدۂ عبرت کو ہے موقوف
گو بے بساط قطره اشک چکیدہ ہوں