غزل 7
اخترؔ آصفی پشاوری
رسمِ اربابِ محبت کی جو پروا نہ کریں
اُن سے کہہ دو کہ محبت کا وہ دعوی نہ کریں
پھول کی آڑ میں کانٹے بھی ہوا کرتے ہیں
سیر گل آپ کریں پر اُنہیں چھیڑا نہ کریں
جی میں آتا ہے منہ چوم لوں آگے بڑھ کر
آپ منہ بند کلی مجھ کو دیکھا نہ کریں
بدگمانی سی ہوا کرتی ہے دِل میں پیدا
دیکھ کر آپ مجھے غیر کو دیکھا نہ کریں
صبح فردا سے نہ ہو صبح قیامت جو مراد
کبھی عشاق سے وہ وعدہ فردا نہ کریں
تیرگی شامِ مقدر کی بلا ہے ہم کو
کیا کریں ہم جو تری زلف کا سودا نہ کریں
آپ روزانہ سرِ شام کہاں جاتے ہیں
اِس طرح دیدے پہ دیوار اُٹھایا نہ کریں
نام دنیائے محبت میں جنہیں کرنا ہے
اپنے دِل میں کوئی ارماں وہ پیدا نہ کریں
خیریت اپنی اگر چاہتے ہیں آپ اخترؔ
کوئے خوبانِ دِل آزار میں جایا نہ کریں
برائے:مشاعرہ بزم آصفی (۱۷ نومبر ۱۹۶۲)