غزل 52
اخترؔ آصفی پشاوری
رموزِ سرفروشی خوب اہل دِل سمجھتے ہیں
مجھے بسمل سمجھتے ہیں تجھے قاتل سمجھتے ہیں
جو لمحاتِ بقا کو وقفہ باطل سمجھتے ہیں
محبت کو وہ اپنی زیست کا حاصل سمجھتے ہیں
سفینہ غرق ہوتا ہے جہاں بحرِ محبت میں
اسی کو اہل دِل مقصود کا ساحل سمجھتے ہیں
وہی میکش ہے ہستی جس کی ہے منت کشِ مستی
ہمیں وہ ہیں کہ تجھ کو ساقی محفل سمجھتے ہیں
کیا مجنوں ہمیں اک رشکِ لیلی کی محبت نے
غبارِ کارواں کو جلوه محمل سمجھتے ہیں
ہجوم نامرادی یاس افرا ہو نہیں سکتی
ہم اُس کی یاد کو اُمید کا حامل سمجھتے ہیں
فریب شوق ہے یہ یا فریب اپنے تخیل کا
ہر اِک نقش قدم کو اپنی ہم منزل سمجھتے ہیں
دِل تاریک کو اِک نور کا نقطہ بنا ڈالا
جگر کے داغ کو ہم تومبہ کامل سمجھتے ہیں
صلہ کیا کم یہ اخترؔ ہے تمہاری جانثاری کا
کہ اب وہ تم کو اپنا عاشق کامل سمجھتے ہیں