غزل 5
اخترؔ آصفی پشاوری
ربط کم ظرفوں سے رکھنے میں زیاں ہوتا ہے
دل کا ہر راز یہاں نوکِ زباں ہوتا ہے
تذکرہ شوق کا کیا مری زباں پر آئے
آپ کا پاس حیا مہر دہاں ہوتا ہے
محو رہتا ہے ترے ذکر میں دِل شام و سحر
ہر گھڑی نام ترا وردِ زباں ہوتا ہے
دیکھتے ہو جو عداوت سے بھی تم مری طرف
بخدا مجھ کو محبت کا گماں ہوتا ہے
دور سے دیکھ لیا کرتا ہوں صورت اُن کی
بزم عشرت میں گذر اپنا کہاں ہوتا ہے
یاد آجاتی ہے رنگینی رخ جب اُن کی
اشک خونیں مری آنکھوں سے رواں ہوتا ہے
خوف طوفاں کا اخترؔ ہے نہ گرداب کا ڈر ہے
کشی دِل کا خدا خود نگراں ہوتا ہے
برائے:بزم مضطر (۱۰ نومبر ۱۰۶۲)