راز محبت
اخترؔ آصفی پشاوری
رہ گیا راز محبت کا نمایاں ہو کر
دیدہ تر نے ڈبویا مجھے گریاں ہو کر
عاشقوں کا یہی انجام ہوا کرتا ہے
کیوں اُٹھے تم میری بالیں سے پشیماں ہو کر
باغباں تجھ سے چمن میں کوئی دل شاد نہیں
دیکھ کچھ کہتی ہیں کلیاں بھی پریشاں ہو کر
آنکھیں گلگوں ہیں جبیں گلاب اور چہرہ گلنار
آج گھر سے کوئی نکلا ہے گلستاں ہو کر
یوں ہی تم شور تبسم سے نمک چھڑکے جاؤ
زخم کھل جائیں گے خود ان کے نمکداں ہو کر
یہ بھی قائل ہے ترے حسن کی یکتائی کا
آئینہ دیکھ رہا ہے تجھے حیراں ہو کر
اپنی ہی آگ میں ہم پھک گئے اے ضعیف کیا
رہ گیا دل ہی میں عبس نالہ شرر افشاں ہوں کر
کیسی یہ شان تجلی ہے میں تم پر صدقے
دل میں ہو جلوہ فگن آنکھوں سے پنہاں ہو کر
وہ یہ کہتے ہیں نہیں اگلا سا جوش اخترؔ میں
اور مشکل ہوئی مشکل مری اساں ہو کر