غزل 68
اخترؔ آصفی پشاوری
پہنچا نہ بزمِ ناز میں گو تا فلک گیا
نالہ جو دل سے ہجر میں نکلا بھٹک گیا
ہونا تھا مہربان نہ ہوا ساقی حسیں
پیمانہ میرے صبر کا آخر چھلک گیا
الٹی جو اس نے چہرۂ روشن سے یوں نقاب
ہر سمت جلوہ گاہ میں شعلہ لپک گیا
ساقی کے التفات کی بارش تھی اور ہم
واعظ کہاں سے بیچ میں آ کر ٹپک گیا
تبدیل ہوگئی خزاں بھی بہار میں
آتے ہی تیرے سارا گلستاں مہک گیا
اک بے وفا کی اب بھی جہاں یاد آ گئی
آنسو نکل کے آنکھ سے رخ پر ڈھلک گیا
اس کی نگاہِ ناز سے ہم مطمئن ہوئے
دل میں جگہ یقیں نے پا لی کہ شک گیا
تھا حُسنِ اتفاق شبِ وصلِ یار میں
نالہ گلوئے مرغِ سحر میں اٹک گیا
سازش نہیں پسند کسی کے خلاف اسے
اخترؔ کو یہ جہاں نظر ٹھٹک گیا
شائع شدہ:الفلاح پشاور