غزل 10
اخترؔ آصفی پشاوری
پھر رہے ہیں اہلِ دِل ناکام تیرے شہر میں
نام تیرا ہوتا ہے بدنام تیرے شہر میں
صبح اپنے شہر میں کی شام تیرے شہر میں
کھینچ لائی گردشِ ایام تیرے شہر میں
آٹھ آٹھ آنسو بہاتے پھرتے ہیں اہلِ خرد
کم نظر جو ہیں وہ ہیں خوش کام تیرے شہر میں
رند صہبائی ہو حافظ یا کہ ہو اقبال عصر
پیتے ہیں تلخ ابابہ بھر کر جام تیرے شہر میں
تجھ سے ڈرتی ہے خدائی اے بُتِ پیغارہ حو
کون لیتا ہے خدا کا نام تیرے شہر میں
آرزو دِل کی یہی ہے کوئی پرساں ہو نہ ہو
صبح تیرے شہر میں ہو شام تیرے شہر میں
قابل رشک انکا رہنا جس پر ہو تیری نظر
ہم تو آئے ہیں برائے نام تیرے شہر میں
ترے ہوتے ہی زپا افتاده تقوی رواج
پارسا ہے رِند مئے شام تیرے شہر میں
تیری آنکھوں کا قصیدہ رکھتا ہے وردِ زباں
بن کے اخترؔ غالب و خیام تیرے شہر میں