غزل 50
اخترؔ آصفی پشاوری
نظر جس بادہ کش پر ساقی مخمور کرتا ہے
اسے بے منتِ صہبا نشے میں چُور کرتا ہے
برا کیا بادہ کش اے زاہد معمور کرتا ہے
جو الفت دختر رز سے بجائے حور کرتا ہے
میں وہ میکش ہوں اے زاہد جو کوثر کے تصور میں
کمال احترام باده انگور کرتا ہے
یہ کہہ دو چاند سے چھپ جائے وہ ابر خجالت میں
عیاں چلمن سے اپنا وہ رُخ پرنور کرتا ہے
بظاہر دشمنی زاہد نہ کرتا ہے پرستوں سے
محبت دخت رز اسطرح مستور کرتا ہے
مدد اے ضبطِ الفت پر کوئی مشقِ تغافل سے
فغال پر، آه پر، فریاد پر، مجبور کرتا ہے
عداوت ہے ازل کی آسماں کو درد مندوں سے
یہ ظالم کب کسی غمدیدہ کو مسرور کرتا ہے
کبھی یہ بندہ مجبور کو آقا بناتا ہے
کبھی آقا کو ظالم بندہ مجبور کرتا ہے
دیا کرتا ہے اک کامل کو میدان ترقی بھی
ہمیشہ ناقص و نااہل کو منصور کرتا ہے