غزل 72
اخترؔ آصفی پشاوری
ملنے کا کیا مزا جو نہ جی کھول کر ملے
ہاں دل سے دل ملے تو نظر سے نظر ملے
لینے دیا نہ چین دلِ بے قرار نے
ملنا نہ چاہتے تھے ہم انسے مگر ملے
اب جی میں ہے کہ ایسی جگہ لیجائے جہاں
اس کے سوا کسی کو نہ میری خبر ملے
احباب لے چلے مجھے تجھ سے ملے بغیر
اے کاش راستے میں تری رہگزر ملے
دیر و حرم کی میری جبیں کو ہو کیوں تلاش
سجدے کیواسطے جو ترا سنگِ در ملے
یوں مل رہی ہے سنگِ درِ یار سے جبیں
جیسے لپٹ لپٹ کے دعا سے اثر ملے
جائے کہاں اب اس کی ملاقات کو کوئی
محفل میں وہ ملے نہ سر رہ گزر ملے
زلفیں ہٹائے کہ ذرا رخ تو چوم لوں
جب تک سوادِ شب سے بیاضِ سحر ملے
میں اس سے اپنے ذوق پرستش کی داد لوں
اخترؔ کہیں جو وہ بت بے داد گر ملے
بمقام:ڈھاکہ