غزل 65
اخترؔ آصفی پشاوری
مرے شوق کو ہے شورش ترے عشوو ادا سے
مرے دل میں ہے قیامت تری چشم فتنہ زا سے
ہوئی جو بلا مسلط اُسے میں نے سر پر رکھا
مرے دل کو نسبتیں ہیں ترے گیسوِ رسا سے
یوں ہی کو بہ کو محبت میں پھروں نہ کیوں ہمیشہ
میں وہ خاک منتشر ہوں جو ہو در بدر ہوا سے
کبھی آ نکل ادھر بھی کہ تجھے میں دل دکھا دوں
یہ وہ شیشہ ہے لبالب جو ہے باد وفا سے
یہ اثر مری جبیں پر جو ہے سجدہ کا نمایاں
ہے نشانِ امتیازی سنداتِ نقش پا سے
ترے وعدے پر نہ آنے کی میں کیا کروں شکایت
کہ شکایتیں رہی ہیں مجھے بختِ نارسا سے
مرے حال دل کو سن کر وہ کسی کا رُخ بدلنا
وہ زباں کو روک دینا مرا عرضِ مدعا سے
مری نکتہ رس طبیعت ہوئی مشعل ہدایت
جو بتوں سے فیض پایا تو صلا ملا خدا سے
مرے عشق نے بچھائی جو بساط آرزو کی
چمک اُٹھی دل کی دُنیا ترے حسن کی ضیا سے
مرے شوق پر بھی ڈالو کبھی تم حیا کا پر تو
مرے دل کو بھی جلاؤ کبھی وعدہ وفا سے
مری چشم شوق اخترؔ اسی شوق میں کھلی ہے
کہ وہ اس طرف بھی شاید کبھی دیکھ لے ادا سے