غزل 16
اخترؔ آصفی پشاوری
میں نے جب بھی تجھے اے راحتِ جاں دیکھا ہے
دل میں جذبات کا سیلاب رواں دیکھا ہے
اللہ اللہ مرے اس بحر لطافت کا جمال
دل میں ایک موج سی اُٹھتی ہے جہاں دیکھا ہے
کیوں خزاں ہو نہ بہاروں کی رہینِ منت
کہ بہاروں ہی کو پامالِ خزاں دیکھا ہے
دل میں لہراتی کبھی دیکھیں ہیں زلفیں ان کی
ان کی زلفوں میں کبھی دل کو تپاں دیکھا ہے
ہر دم آنکھوں کو رہا کرتی ہے دلچسپ تلاش
نہیں معلوم ترا جلوہ کہاں دیکھا ہے
دل جوانی ہی سے ہے گیسوئے دُنیا میں اسیر
یہ وہ بوڑھا ہے جسے میں نے جواں دیکھا ہے
دل کو پایا ہے کبھی نازک مژگاں کا ہدف
تیغِ ابرو کا کبھی سنگ فساں دیکھا ہے
سن کے محل میں وہ اخترؔ کی غزل بول اُٹھے
بعد مدت کے یہ اندازِ بیاں دیکھا ہے
برائے:بزم آصفی ۔ میر پور (۲۲ مارچ ۱۹۶۵)