غزل 86
اخترؔ آصفی پشاوری
میکشوں کو جب خیال زلف ساقی آگیا
جھوم کرابر سیہ بادہ کدے پر چھاگیا
ابر قبلے سے اٹھا اور میکدے پر چھاگیا
مُژدہ باد اے میکشو پینے کا موسم آگیا
کیا تعجب ہے اگر زاہد نے بھی پی لی شراب
آخرش انساں ہے زہدِ خشک سے گھبرا گیا
باغباں کرتاہے دیوانوں کی اپنے دیکھ بھال
کیا فضا بدلی چمن کی موسم گل آگیا
زندگی اس کی ہے بحراس کا ہے موجیں اسکی ہیں
جستجو کی رو میں طوفانوں سے جو ٹکرا گیا
آخر میں بھید کیا ہے برہمن تو ہی بتا
جا رہا تھا میں حرم کو بتکدے میں آگیا
دیتی ہے رونق چمن کو کھلنے والی ہر کلی
غنچہ امید میرابے کھلے مرجھا گیا
دل کو پھر ذوق محبت نے مگر زندہ کیا
تیرا اندازِ ستم یاد آکے پھر تڑپا گیا
کرتی ہے دل شگفتہ تیرے جلووں کی بہار
عارض گلگوں سے تیرے چاند بھی شرماگیا
شوق منزل میں مرے قدموں کی سرگرمی نہ پوچھ
قافلے والوں کے ماتھے پر پسینہ آگیا
تیری یہ آتش نوائی ہر سخن ور میں کہاں
بزم کو اخترؔ ترا رنگِ سخن گرماگیا