غزل 9
اخترؔ آصفی پشاوری
کچھ پھول ہیں شگفتہ نہیں ہیں بہار میں
موسم کا ہے کرشمہ عیاں خار خار میں
اپنا بنائے رکھتا ہے ہر اہلِ دِل کو عشق
یہ پختگی کہاں ہوسِ خامکار میں
اے شوق مرے دِل سے تو اپنی دُکاں اُٹھا
حاصل ہوا نہ کچھ بھی ترے کاروبار میں
شاید یہیں کی خاک میں ہونا ہے اس کو دفن
دِل ہے طوافِ دائرہ کوئے یار میں
ان میں جو پھنس گیا وہ نکلتا نہیں کبھی
حلقے بلا کے ہیں ترے گیسوئے تار میں
اے بے قرار دِل میں اُسے بخشتا تجھے
ہوتا اگر قرار مرے اختیار میں
دِل میں سرور ہے نہ تو آنکھوں میں نور ہے
سب کچھ لٹا چکا ہوں ترے انتظار میں
اخترؔ بڑھاؤ تم غم جاناں سےارتباط
بیکار گھل رہے ہو غمِ روزگار میں
برائے:بزم آصفی (۲۴ دسمبر ۱۹۶۲)