غزل 38
اخترؔ آصفی پشاوری
خوش ہوں اپنا اوج اخترؔ دیکھ کر
دامنِ طفلاں میں پتھر دیکھ کر
سخت جاں میں، آپ ہیں نازک بدن
کھنچیئے شمشیر مجھ پر دیکھ کر
نقش بر دیوار بن کر رہ گیا
شہرِ خاموشاں کا منظر دیکھ کر
یاد آئیں پھر وہ راتیں ہجر کی
وسعت دامانِ محشر دیکھ کر
سوچ لے انجام ہر آغاز کا
کام کر اے دل سمجھ کر دیکھ کر
دل پکڑ کر ره گئے آئینہ میں
حس کا اپنے وہ منظر دیکھ کر
دل بچھے ہیں عاشقوں کے راہ میں
راه چلتے بندہ پرور دیکھ کر
اسماں بھی رات دن چکر میں ہے
میری بربادی کا منتظر دیکھ کر
یاد میں اس پھول سے رخسار کے
رو دیا ہوں میں گل تر دیکھ کر
برائے:مشاعرہ بزم ادب پشاور
نوٹ:مصرعہ طرح: سر جھکا دیتے ہیں خنجر دیکھ کر