خاکِ پشاور
اخترؔ آصفی پشاوری
عنصر خاکی کو تعمیر عناصر کا سلام
نفسیات شوق کے دیرینہ ماہر کا سلام
دل کشی پرور وہ حسن مناظر کا سلام
خاک پشاور ترے ذرنکو شاعر کا سلام
قلب سوزاں روح مضطر جانِ لاغر کا سلام
تیری مٹی سے بنا اور تیرے بر زن میں پلا
تیرے محلوں میں براجا تیرے آنگن میں پلا
ڈالیوں میں تیری جھولا تیرے گلشن میں پلا
جو تری گلیوں میں کھیلا تیرے امن میں پلا
تجھ کو گھر سمجھا تھا جس نے اس مسافر کا سلام
اک ہی قسمت مقتدر سوختہ حرماں نصیب
کاٹ ڈالی جس نے ساری زندگانی بے حبیب
درد کو سمجھا نہ جس کے آجتک کوئی طبیب
گھر سے اجڑا بھی مگر تجھ تک نہ پہونچا جو غریب
اس طن آوارہ و بے یار و ناصر کا سلام
جس نے رکھا دوست تیرے ہر دغن کو نواغ
جس نے دی فردوس پر ترجیح تیرے باغ کو
دل میں رکھا جس نے تیرے چھوٹنے کے داغ کو
تیرے دشت و مرغ زار کوہسار و راغ کو
آہوئے رم خوردہ تقدیر آخر کا سلام
ابتک آنکھوں میں میری پھرتے ہیں تیرے آبشار
سرمہ شم بصیرت تھا مجھے تیرا غبار
بہت عالی مری تیرا نمایاں شاہکار
تیرے شیروں نوجوانوں غازیوں کو اے یار
تیرے اک بچھڑے ہوئے میں مسافر کا سلام
گونجتی ہے کان میں وہ جھینگروں کی تیری لے
مجمع احباب ندی کا کنارہ دور مے
ذہن میں محفوظ ہے ابتک تری اک ایک شے
دور ہے آنکھوں سے میری دل سے تو نزدیک ہے
اس دلِ بے تاب مہجورو مہاجر کا سلام
ہے میر امید بھی دوش تمنا پر وبال
دل رہا کرتا ہے میرا جوش حرماں سے نڈھال
علم میں تیرے نہیں ہے میرا شوق بے مثال
تیری نبض زندگی خون تہور سے نہال
عاشق رزم وغا اور جوش قاہر کا سلام
دل کی خواہش ہے کہ جا پہونچے فضاؤں میں تری
ساز اہل دل کے ہیں بجتے فضاؤں میں تری
گونجتے ہوں گے ترے نغمے فضاؤں میں تری
قہقے میرے اب جد کے فضاؤں میں تری
ان کو میرے رنج پنہاں درد ظاہر کا سلام
کھینچتی اس کو ہیں اپنی طرف سعی فضول
کاش آجائے سمجھ میں تیری اخترؔ کا دل
یاد رکھ اس کی تمنا کو کہیں جانا نہ بھول
میری مشتِ خاک بھی کر اپنے دامن میں قبول
خاک پشاور ترے ذرونکو کو شاعر کا سلام