غزل 11
اخترؔ آصفی پشاوری
کرتا نہیں میں عشق کا اظہار اِس ڈر سے
ایسا نہ ہو گر جاؤں ستمگر کی نظر سے
خنجر کی ضرورت تو نہیں قتل کو میرے
یہ کام بھی لے سکتے ہو تم تیر نظر سے
کچھ پوچھ سکوں تم سے مجھے حق تو نہیں ہے
پر اتنا تو پوچھونگا کہ آئے ہو کدھر سے
مقتل میں تمنا کا مری خون نہ کر دے
شمشیر نزاکت کی بندھی ہے جو کمر سے
جس راہ میں دی یاروں نے منصور کو سولی
گذرا ہوں کئی بار میں اس راہگذر سے
کیا ہوگا یہاں بھی جو ٹھکانہ نہ لگا ہاتھ
نکلا تھا ترے در کے بھروسے پر میں گھر سے
کھلتی نہیں اس شوخ کی پیماں شکنی بھی
وہ عیب نہیں ہے جو کیا جائے ہنر سے
اوجھل ہوئے آنکھوں سے تو کچھ غم نہیں اس کا
جاؤ گے بھلا بیچ کے کہاں دِل کی نظر سے
دِن میں نظر آنے لگے تارے مجھے اخترؔ
دیکھا ادھر اس شوخ نے کچھ ایسی نظر سے
برائے:بزم مضطر (۱۴ جولائی ۱۹۶۳)