غزل 67
اخترؔ آصفی پشاوری
جس سے واقف وہ مستِ ناز نہیں
وہ میرا شیوه نیاز نہیں
دور اشفتگانِ الفت سے
سایہِ گیسوئے دراز نہیں
سرکشی جو حرم سے کر نہ سکا
بت کدے میں وہ سرفراز نہیں
دِل چرا کر چراتے ہوں آنکھیں
راز جب کھل گیا تو راز نہیں
فرق عشق و ہوس میں ہے لیکن
آپ کہہ دیں امتیاز نہیں
پھر یہ ابر کرم ہے کیا واعظ
مے کشی کا اگر جواز نہیں
نہیں اہل نیاز وہ اخترؔ
جو خراب حریمِ ناز نہیں
بتاریخ:۸ جون ۱۹۶۰