غزل 58
اخترؔ آصفی پشاوری
حُسنِ فانی پہ غرور اے بُتِ بے پیر نہ کر
اس طرح جذبہ عشاق کی تحقیر نہ کر
دل بسمل کو نہ کر لطف خلش سے محروم
اے ستمگر مرے پہلو سے جدا تیر نہ کر
مجھ کو معلوم ہے جنت کی حقیقت زاہد
اپنے بوسیدہ خیالات کی تفسیر نہ کر
دخترِ جلوه فطرت کا مبصر بن جا
حسن خوبانِ حجازی کی تو تفسیر نہ کر
پاک رکھ شیخ تعصب سے ہمیشہ دِل کو
پیروانِ رهِ بتخانہ کی تکفیر نہ کر
دِل ازل سے ہے ترے حلقہ گیسو میں اسیر
تو عبث زحمتِ پابندی زنجیر نہ کر
میں نہیں چاہتا راحت میں خلل اس بت کی
ضبط کر، نالۂ غم اے دِل دلگیر نہ کر
پائے مہلت کوئی کیوں گرم فغاں ہونے کی
مشقِ بیداد میں ستی فلک پیر نہ کر
نشے میں تو بہکتا ہے بہت بادہ پرست
رازِ سر بستہِ میخانہ کی تشہیر نہ کر