غزل 55
اخترؔ آصفی پشاوری
ہوش بھی اپنا ہے بجا دِل بھی ہے اختیار میں
وصل سے بڑھ کے لطف ہے یار کے انتظار میں
خواب میں بھی مجھے کبھی شکل اگر دکھا دو تم
آنکھ نہ جھپکے عمر بھر لذت انتظار میں
آ بھی چکو کہیں کہ ہو مدت انتظار ختم
جان کو بھی ہے اضطراب دل بھی ہے انتشار میں
اس کے سوا بہشت میں آئے گا اور کیا مزہ
جاری ہے دورِ جام بھی یار بھی ہے کنار میں
لغو ہے فکر عاقبت حسن سے فائدہ اُلٹا
ذکر خزاں کا کیا ترے باغ سدا بہار میں
دعوتِ میش دیتی ہیں کیفیتیں بہار کی
لطف اُٹھائیں دم بھر آؤ بیٹھ کے مرغزار میں
دامن دِل بھی چاک ہے گل کا جگر بھی چاک ہے
چاک کی کچھ کمی نہیں پیراہن بہار میں
غنچہ بھی مست گل بھی مست بلبل خوش نوا بھی مست
میرا تو جی بہل گیا میکدہ بہار میں
کہنا نہ اس سے رازِ دِل اپنی زبان سے کبھی
اخترؔ اگر ہو دخل بھی تم کو مزاج یار میں
برائے:مشاعرہ مجمع الا احباب رنگون (۱۲ اکتوبر ۱۹۳۳)