گل بھی خوش ہے تاج بھی ہے
اخترؔ آصفی پشاوری
نوشہ بن کر آیاز آیا
ہیرا بھی پکھراج بھی خوش ہے
دھوم ہے خاص و عام میں اس کی
راجہ بھی خوش راج بھی خوش ہے
گبر و مسلماں دونوں خوش ہیں
شیخ بھی خوش مہاراج بھی خوش ہے
نور محمد جھوم رہے ہیں
گل بھی خوش ہے تاج بھی خوش ہے
اخترؔ کی کیا پوچھ رہے ہو
کل بھی خوش تھا آج بھی خوش ہے
بمقام و تاریخ:چاٹگام•۲۵ دسمبر ۱۹۵۱