غزل 3
اخترؔ آصفی پشاوری
غم فراق کہ صدمے اُٹھائے جاتے ہیں
نبھانی ہے محبت نبھائے جاتے ہیں
ادا سے ان کا شب وصل روٹھ کر کہنا
یہ آپ آج مری جان کھائے جاتے ہیں
گرے نہ برق غضب مجھ پر کیوں سرِ محفل
کہ ذکر غیر پر وہ مسکرائے جاتے ہیں
حریم ناز میں اور غم کدے میں فرق ہے یہ
یہاں چراغ اور وہاں دل جلائے جاتے ہیں
فنا چیدہ الفت میں وہ کہ مر کر بھی
ہماری خاک سے مجنوں بنائے جاتے ہیں
وہ میکدہ ہے محبت کا جس میں شام و سحر
غم فراق کے ساغر پلائے جاتے ہیں
برا ہو اس دِل مضطر کا آج اے اخترؔ
ہم اُس کی بزم میں پھر سے بلائے جاتے ہیں
نوٹ:مصرعہ طرح: یہاں چراغ وہاں دل جلائے جاتے ہیں