غزل 25
اخترؔ آصفی پشاوری
غلط ہے اے دل بدگماں کہ وہ ملتفت بہ کرم نہیں
یہ کرم نہیں کہ مرے سوا کوئی اور وقفِ ستم نہیں
وہ صنم کے جس کے وجود کو کسی دور میں بھی عدم نہیں
بس اسی کو کرتا ہوں سجدے میں وہ میرا خدا ہے صنم نہیں
وہ سرائے جلوہ ہے شیخ جی جسے آپ کہتے ہیں بتکدہ
کبھی اس کی سیر تو کیجئے وہ مقام طور سے کم نہیں
مری صبح صبح طرب نہ ہو ترا التفات نہ ہو اگر
یہ تری نگاہ کا ہے کرم مری شام شامِ الم نہیں
یہ تصورات کا فلسفہ ہے یا تخیلات کی بت گری
سبق سجود و نیاز سے یہ صنم کدہ ہے حرم نہیں
مرا مدعا تو ہے عشق سے کہ ہو تزکیہ مرے نفس کا
جو ہوائے عیش و طرب میں ہیں وہ ہوس پرستوں سے کم نہیں
چلے بس ہمارا تو توڑ دیں یہ تکلفات کی سرحدیں
یہ حیات کوئی حیات ہے ابھی تم نہیں ابھی ہم نہیں
مری زندگی کے وہ واقعے جفا و وفا کی داستاں
لکھوں کیا میں اخترِؔ خوش رقم میرے ہاتھ میں وہ قلم نہیں
برائے:بزم عندلیب مشاعره