غزل 56
اخترؔ آصفی پشاوری
دِل مبتلائے گیسوئے جانانہ ہو گیا
کمبخت ہوشیار سے دیوانہ ہو گیا
ساقی کی چشمِ مست سے یارانہ ہو گیا
دل بے نیاز بادہ و پیمانہ ہو گیا
دل اِک پری کے عشق میں دیوانہ ہو گیا
آئینہ خیال پری خانہ ہو گیا
پڑنے لگی ہے مجھ پر نظر انتخاب کی
مقبول یارِ طرز فدایانہ ہو گیا
مہماں ہے میرا ساقی عیش و نشاط آج
میخانہ طرب میرا کاشانہ ہو گیا
ہنگام گریہ ورد جو تھا ترے نام کا
اشکوں کا تار صحہ صد دانہ ہو گیا
بنتِ عنب کے غمزوں سے جو آشنا ہوا
بیگانہ خرد ہوا دیوانہ ہو گیا
وہ دِل تھا جس کا سوزِ دروں پر مدارِ زیست
شمع جمال یار کا پروانہ ہو گیا
برائے:مشاعرہ بزم آصفیہ بر مکان حضرت استاذی عبدالرحمن صاحب آصف پرنس روڈ (۲۴ اکتوبر ۱۹۲۷)
نوٹ:مصرعہ طرح: افسوس ترے جمال کا افسانہ ہو گیا