غزل 17
اخترؔ آصفی پشاوری
چہرے پر بیکلی بھی اگر رونما ہوئی
یہ جان لو کہ روحِ محبت فنا ہوئی
ڈالی تھی آشیانے کی میں نے جہاں بنا
اس شاخ پر نوازش برق بلا ہوئی
کیا میری زندگی کا کوئی مدعا نہ تھا
اک بے وفا یہ جان گرامی فدا ہوئی
حاصل نہ ہو سکے گا تیرے حسن کو دوام
میری حیات عشق اگر بے بقا ہوئی
ہر اک پہ کھل گیا تیری آہ فغاں کا راز
تھی تاب ضبط تجھ میں جو اے دل تھی کیا ہوئی
وه شاد خوں کر کے کسی بے گناہ کا
یہ خوش کہ آج رسمِ محبت ادا ہوئی
پوچھا کسی نے مجھ کو نہ گلزارِ دہر میں
پرساں اگر ہوئی بھی تو برق بلا ہوئی
تھی التفات ناز کو مد نظر جفا
اور مجھ کو دیکھئے کہ اُمید وفا ہوئی
بیگانگی اہل وطن کا گلہ ہے کیا
برگشتہ مجھ سے جب نگہہ آشنا ہوئی
اخترؔ پہنچ ہی جاؤنگا تا منزلِ مراد
اس کی نگاہِ ناز اگر رہنما ہوئی