بہار عيد
اخترؔ آصفی پشاوری
فضا ہے جلوه در آغوش جلوه گل بکنار
یہ کس کے وصل کی پیغام بر بنی ہے بہار
نسیم توڑ رہی ہے سبوئے غنچہ کی مہر
برنگ بادہ ہے توبہ شکن گلوں کا نکھار
بہار پہنچی ہے اس نقطہ پر جہاں جاکر
شراب پینے سے زاہد کو بھی نہ ہو انکار
حیا حریم تمنا میں جلوہ آرا ہے
جبین شوق پہ ظاہر ہیں سجدہ کے آثار
حریم ناز میں ہے حسن محو آرایش
ہے گرم عشق کی محفل میں دید کا بازار
کہاں ہے ساقی رعنا لندھائے خم کے خم
کہ اک مہینے کا کرنا ہے دور ہم کو خمار
ترے نثار مغنی ذرا رباب اٹھا
کہ دلکشا ہے بہار پیالہ روے نگار
ہلال عید نے مژدہ دیا ہے عشرت کا
جلو میں ہے سحر عید کے دلوں کا قرار
وہ قافلہ تو روانہ ہوا میام کے ساتھ
فضائے دل میں نہیں فکر عاقبت کا غبار
جو دل ہے زندہ تو دے داد خوشدلی اخترؔ
کہ جلوہ پاش بصد ناز ہے عروس بہار
لحاظ شوق در ایں دور خوشگوار خوش است
بنوش باده عشرت کہ روزگار خوش است
بمقام و تاریخ:چاٹگام•۲۲ جون ۱۹۵۲