اعترافِ حق
اخترؔ آصفی پشاوری
مرحبا اے فخر سرحد اے حرم کے پاسبان
ہے تری ذات گرامی نازش اسلامیاں
تو نے اُس تاریک خطہ میں اجالا کر دیا
ماند آتا تھا نظر شمس حکومت بھی جہاں
رام کرنا سرکشوں کو یہ تیرا اعزاز ہے
اب زر سے لکھنے کے قابل ہے تیری داستاں
یہ بھی اک اعجاز ہے حُسنِ تدبر کا ترے
رہ گئے دب کر وہیں پر فتنہ پرور تھے جہاں
کرتا ہے مشکور تیری سعی کو مرا خلوص
اس طرح ایسی مہم ہوتی ہے ورنہ سر کہاں
شہرہ ہر سو ہے اخلاق کا اخلاص کا
شاد ہوجاتے ہیں دل نام آتا ہے تیرا جہاں
آج تیرے دم سے ہے شاداب سرحد کی زمین
اس چمن کا پوچھنا کیا تو ہو جسکا باغباں
یوں تو عمال حکومت آئے اور گزرے بہت
فضل حق جسکو کہیں ایسے مدبر تھے کہاں
تو ہمیشہ سایہ افگن اہل سرحد پر ہے
اور اخترؔ ہو تیری تعریف رطب اللسان
شائع شدہ:روزمانہ انقلاب پشاور خصوصی نمبر (۸ جولائی ۱۹۸۴)