آئینه گفتار
اخترؔ آصفی پشاوری
نہ جیبِ چاک نہ دامانِ تار تار کو دیکھ
جنوں نواز ہے کتنی میری بہار کو دیکھ
جنوں نے رکھی نہ باقی رفو کی گنجائش
یقیں نہ آئے تو دامانِ تار تار کو دیکھ
یہ حادثات کے طوفاں کا پیش خیمہ ہے
شفق کے عارضِ گل رنگ پر غبار دیکھ
مٹا وہ دل بھی جو طوفاں آرزو تھا کبھی
بجھی بجھی سی ہے شمع سرِ مزار کو دیکھ
جو کان رکھتا ہے سن مادرِ وطن کی فغاں
جو آنکھ ہے ستمِ پیرِ روزگار کو دیکھ
اگرچہ وعده ترا اج تک وفا نہ ہوا
میں انتظار میں ہوں مرے اعتبار کو دیکھ
رسائی میل سہی تا بہ منزلِ مقصود
ہوا کا رخ تو اُڑا کر ذرا غبار کو دیکھ
اندھیری رات کی تاریکیاں تو دیکھی ہیں
اُٹھ اور جلوہ تابندہ نہار کو دیکھ
تو اپنی ریشہ دوانی سے باز آ ناداں
لگے ٹھیس نہ ہرگز مرے وقار کو دیکھ
دلیل پستیِ ہمت ہے کوشش تخریب
بند کاخیِ تعمیرِ کامگار کو دیکھ
بہار باغِ وطن کی ہے تجھ سے داد طلب
نہ روند اپنے ترو تازہ سبزہ زار کو دیکھ
ضرورت آج ہے ضرب کلیم کی اخترؔ
زرا تو اپنے عصائے گراں وقار کو دیکھ