غزل 76
اخترؔ آصفی پشاوری
زرافشاں مانگ بزم کہکشاں معلوم ہوتی ہے
زمین کوئے جاناں آسماں معلوم ہوتی ہے
نگاہِ ناز طرفہ چیستاں معلوم ہوتی ہے
بلائے جان ہے اور آرام جاں معلوم ہوتی ہے
کچھ ایسی چھائی ہے افسردگی گلزار عالم میں
چمن کی ہر کلی وقف خزاں معلوم ہوتی ہے
اثر اس کا براہ راست میخواروں پر ہوتا ہے
پری شیشے کی خود پیر مغاں معلوم ہوتی ہے
یہ کیا طرفہ تماشہ ہے نہ موجیں ہیں نہ دریا ہے
بھنور میں کشتی عمر رواں معلوم ہوتی ہے
کفیل زندگی جس آرزو کو ہم سمجھتے تھے
وہی ان کی طبیعت پر گراں معلوم ہوتی ہے
خدا رکھے عجب شے ہے یہ محسوسات کی دنیا
یہاں دل کی خلش راحت رساں معلوم ہوتی ہے
مرے دلمیں بسی ہے اس طرح تخیل بربادی
چمک جگنو کی برق آشیاں معلوم ہوتی ہے
اگرچہ پیش خیمہ ہے خزاں کا اس کا ہر لمحہ
جوانی اک بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے
اذیت بن گئی دل کیلئے راحت نشیمن کی
کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے
زبان پر شوق کے الفاظ آنے ہی نہیں دیتی
حیا جذباتِ دلکی پاسباں معلوم ہوتی ہے
قدم آگے بڑھے کیا خاک میر کارواں تیرا
مری حسرت شریک کارواں معلوم ہوتی ہے
کہانی میں مری کثرت سے تیرا نام آتا ہے
مری روداد تیری داستان معلوم ہوتی ہے
ہر اک شعر آپ کا جذبات کی تصویر ہے گویا
طبیعت آپ کی اخترؔ جواں معلوم ہوتی ہے