ضبط کر نالہ کہ محشر خیز ہے
اخترؔ آصفی پشاوری
عشق کا سودا جنوں انگیز ہے
اس کا جلوہ کیا بہار امیز ہے
تو سنِ عمر رواں کیا تیز ہے
ہر نفس گو اسے مہمیز ہے
دوستوں میں دوستی باقی نہیں
یہ زمانہ کیا ہی عبرت خیز ہے
قبر میں سوئے تو جاگے حشر میں
نیند بھی اپنی قیامت خیز ہے
ساتھ ساتھ اس کے نہ کوئی چل سکا
گردشِ گردوں نہایت تیز ہے
ہے ادا تیری قضا کے بھیس میں
جان دینے سے کیسے پرہیز ہے
ہر گھڑی اس کے چھلکنے کا ہے ڈر
زندگی اِک ساغرِ لبریز ہے
ہو گئے مجنوں ہزاروں مثل قیس
عشق کا ماحول وحشت خیز ہے
موت تک جاتا ہے اس کا سلسلہ
زندگی کتنی مصیبت خیز ہے
ہم ہیں امید عیادت میں علیل
اور انہیں بیمار سے پرہیز ہے
امن دنیا میں میں نہ ہو اخترؔ مخل
ضبط کر نالہ کہ محشر خیز ہے